ابنا: انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی تازہ رپورٹ میں کوئی جدید بات نہیں اور یہ رپورٹ بھی گذشتہ رپورٹوں کے مانند ہے جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں کوئی انحراف نہیں ہے اور بعض ابہامات پائے جاتے ہیں جن کو دور کرنے کی ضرورت ہے اور ان ابہامات کو دور کرنے کے لئے ایران آمادہ ہے انھوں نے کہا کہ اسی رپورٹ میں یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ ایران کی یورینیم افزودہ کرنے سے لیکر تمام ایٹمی سرگرمیاں بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی نگرانی میں جاری ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پارچین میں ایٹمی ایجنسی کے نمائندوں کو معائنہ کی اجازت نہ دینے کے بارے میں جو خبریں شائع ہوئی ہیں وہ قابل افسوس ہیں کیونکہ ایٹمی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے اس سفر میں معائنہ شامل نہیں تھا بلکہ اس سفر کا مقصد مذاکرات کو شروع کرنے کے مقدمات فراہم کرنا تھا۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ اور بعض دیگر ممالک بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کو صرف ایک نظارتی ادارہ بنانے کی تلاش وکوشش میں ہیں جبکہ ترقی پذير ممالک کو اس بات کا خوف ہے کہ ممکن ہے ایٹمی ایجنسی اپنی فنی ذمہ داریوں کو فراموش کرکے صرف امریکہ کی مرضی کے مطابق نظارتی کام میں مشغول ہوجائے۔
علی اصغر سلطانیہ نے کہا کہ امریکہ ایران کےایٹمی معاملے میں دنیا کو غلط اطلاعات فراہم کررہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے اور یہ ایرانی قوم کا قانونی حق ہے اور ایران اپنے مسلّم حقوق سے ہر گز دستبردار نہیں ہوگا۔....... /169